20 فروری 2011 - 20:30

سرکاری فورسز کی جانب سے ایک بار پھر مظاہرین پر حملے کا اندیشہ پایا جاتا ہے چنانچہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ دیان اسکوائر سے لؤلؤہ اسکوائر کی جانب بڑا جلوس نکال کر اسکوائر پر مظاہروں اور دھرنوں میں شامل نوجوانوں سے اظہار یکجہتی کیا جائے۔

ابنا: بحرین کی ڈیموکرٹیک کونسل کے سیکرٹری جنرل فاضل عباس نے کل بائیس فروری کو حکومت مخالف جماعتوں کی جانب سے وسیع پیمانے پر مظاہرے کی خبر دی ہے ۔ فاضل عباس نے العالم ٹی وی چینل سے گفتگو کرتےہوۓ کہا ہے کہ بحرین کی حکومت مخالف اور سیاسی کو لؤلؤ اسکوائر میں مظاہرہ کرنے والوں سے متعلق حکومت کے مقاصد کے بارے میں اعتماد نہیں ہے اور اس بات کا اندیشہ پایا جاتا ہے کہ سیکورٹی فورسز اور فوج ایک بار پھر مظاہرین پر حملہ کرے گي اس لۓ حکومت مخالفین نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ دیان اسکوائر سے ایک بڑا جلوس نکال کر لؤلؤ اسکوائر کی جانب جائيں گے اور لؤلؤ اسکوائر میں موجود حکومت کے خلاف مظاہرہ کرنے والے جوانوں سے اظہار یکجہتی کریں گے۔ فاضل عباس نے حکومت کی جانب سے مذاکرات کی دعوت کو ٹائم کلنگ قرار دیتے ہوۓ کہا کہ بحرین کے موجودہ دور کو حکومت پر عوام کے عدم اعتماد کا دور قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ بحرین کی حکومت نے اپنے سابقہ وعدوں پر عمل نہیں کیا ہے جن میں ایک یہ ہے کہ اس نے جمعہ کے دن مظاہرہ کرنے والوں پر حملہ نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس نے اپنے اس وعدے کی بھی خلاف ورزی کی یہی وجہ ہے اب اس حکومت پر عوام کو اعتماد نہیں رہا ہے ۔ جمعیت عمل اسلامی کے نائب سربراہ شیخ عبداللہ صالح نے بھی کہا ہے کہ حمد بن عیسی آل خلیفہ کی حکومت نے کبھی بھی عوام سے کۓ اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا ہے۔شیخ صالح نے مزید کہا کہ عوام اور انقلابی افراد بھی انہی تبدیلیوں کا مطالبہ کررہے ہیں جن کا وعدہ خود بحرین کے بادشاہ نے سنہ دو ہزار ایک میں ملک میں اصلاحات لانے کی صورت میں کیا تھا۔ لیکن بحرین کے بادشاہ نے ہر مرتبہ کسی نہ کسی بہانے ملک میں تبدیلیاں لانے کا معاملہ ٹال دیا۔ شیخ صالح نے کہا کہ لوگ ملک میں ایسی تبدیلیاں لاۓ جانے کے خواہاں ہیں جن کے نتیجے میں ایک عادل اور جمہوری حکومت تشکیل پاۓ۔شیخ عبداللہ صالح نے مزید کہا کہ ملک میں ایسے بہت سے قوانین بناۓ جا چکے ہیں جن کی وجہ سے جمہوریت کا راستہ بند کردیا گیا ہے۔ جیسے قتل ، سیاسی جماعتوں اور ذرائع ابلاغ سے متعلق قانون ۔ انہی قوانین کی وجہ سے لوگوں میں اشتعال پایا جاتا ہے۔ بحرین حکومت کے ایک اور مخالف رہنما سعید شہابی نے بھی پریس ٹی وی سے گفتگو میں کہا ہےکہ اس ملک میں نا امیدی کا احساس جوان نسل کے مظاہروں کا سبب بنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ جوان نسل یہ سمجھتی ہے کہ اس پر ظلم کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ خیانت ہوئی ہے ۔ جناب سعید شہابی کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے کسی کو یہ توقع نہیں تھی کہ بحرین کے عوام حکومت مخالف مظاہروں میں فوجیوں کے ٹینکوں اور توپوں کے سامنے سینے تان کر کھڑے ہوجائيں گے ۔ اور اب مظاہروں سے یہ بات ثابت ہوگئي کہ اس ملک کے حکام کی بے توجہی کے باعث بحرین کے سیاسی نظام کے خلاف عوام کے اشتعال میں شدت پیدا ہوچکی ہے۔ اور یہ عوامی تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس ملک میں بنیادی سیاسی تبدیلیاں نہیں آجاتی ہیں۔ بحرین سے شائع ہونے والے جریدے الوسط کے ایک صحافی منصور الجمری نے بھی اپنے ایک مقالے میں بحرین کے انقلاب کو انقلاب لؤلؤ کے نام سے تعبیر کیا ہے کہ جو آخر کار عوام کی کامیابی پر منتج ہوگا۔ منصور الجمری نے مزید کہا کہ بحرین کے پاس سب سے زیادہ گرانقدر چیز اس کے جوان ہی ہیں اور ان جوانوں کے پرامن مظاہروں نے بحرین کو وقار عطا کیا ہے۔ منصور الجمری نے جوانوں کو مخاطب کرتے ہوۓ کہا کہ تم لوگوں نے بحرین کا پرچم بلند کردیا ہے۔ اپنا خون پیش کردیا ہے۔ اب ہمیں آگے کی جانب دیکھنا اور اپنے مقاصد کے حصول کو یقینی بنانا ہوگا۔

.........

/110